10 جولائی 2026 - 16:34
بحرین میں 11 ممتاز شیعہ علماء کا مقدمہ سخت پابندیوں کے سائے میں، شفاف ٹرائل پر سوالات

بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے ڈائریکٹر سید احمد الوداعی نے بحرین کے 11 ممتاز شیعہ علماء کے خلاف عدالتی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی سماعت خفیہ انداز میں ہوئی اور اس میں منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے ڈائریکٹر سید احمد الوداعی نے بحرین میں 11 ممتاز شیعہ علماء کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی سماعت خفیہ طور پر کی گئی اور اس میں منصفانہ عدالتی کارروائی کے کم سے کم تقاضوں کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔

سید احمد الوداعی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ زیر حراست علماء میں سید مجید المشعل، شیخ علی محمد الصددی، شیخ محمد صنقور، شیخ فاضل الزاکی، شیخ محمد الخرسی، شیخ عیسی المؤمن، سید موسیٰ سید جواد الوداعی، شیخ محمد جواد الشہابی، شیخ مرزا المعتوق، شیخ حامد عاشور اور شیخ ایوب علی حسن البحرانی شامل ہیں، جو اب بھی حراست میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ علماء کو عدالت میں جسمانی طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے جج کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ وکلائے صفائی کے علاوہ کسی بھی فرد کو عدالتی کارروائی میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

الوداعی کے مطابق وکلائے صفائی کو اب تک مقدمے کی فائل، فردِ جرم، سرکاری دستاویزات یا استغاثہ کی تفتیشی کارروائی کی نقول تک رسائی نہیں دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کے آغاز سے اب تک وکلاء کو اپنے مؤکلین سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جب وکلاء نے مقدمے کی تفصیلات اور مؤکلین تک رسائی کے بغیر دفاع جاری رکھنے پر اعتراض کیا تو انہیں تادیبی کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔

سید احمد الوداعی نے کہا کہ ان علماء پر عائد الزامات شیعہ مذہبی عقائد اور دینی رسومات سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی ایسے عمل سے جو قانوناً جرم قرار دیا جاتا ہو۔ ان کے بقول یہ اقدام دراصل مذہبی عقائد اور عبادات کو جرم قرار دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ زیر حراست علماء کی ٹیلیفونک گفتگو کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے، مقدمے سے متعلق بات کرنے پر پابندی عائد ہے، جبکہ عدالت نے اہل خانہ کی جانب سے منتخب وکلاء کے باوجود سرکاری وکلاء مقرر کیے ہیں، جنہوں نے مقدمے سے علیحدگی اختیار کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس صورتحال نے دفاع کی آزادی اور ملزمان کے اپنی پسند کے وکیل کے انتخاب کے حق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

الوداعی نے کہا کہ ان علماء کو تقریباً دو ماہ قبل گرفتاری کے بعد سے اب تک اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے موجودہ عدالتی کارروائی کو محض رسمی مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے عاری ہے اور شیعہ دینی قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے عدالتی نظام کے سیاسی استعمال کا تسلسل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha